بابا میں جارہی ہوں۔۔۔گوجرانوالہ کےمہنگے ڈاکٹر کی 14 سالہ بیٹی کے دنیا سے رخصت ہونیکی کہانی

میں چراغ بجھا کر نہیں گئی…
بابا، میں جا رہی ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے سفارش کروں گی۔
میرے حصے کے پیسے صدقہ و خیرات میں لگا دیجیے گا۔


یہ کہانی ہے گوجرانوالہ کے ایک معزز ڈاکٹر کی 14 سالہ بیٹی فاطمہ کی، جس نے کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے صبر، حوصلے اور ایمان کی ایسی مثال قائم کی کہ آنکھیں نم ہو جائیں۔
مہنگے علاج، بڑے ہسپتال اور ہر ممکن کوشش کے باوجود جب زندگی نے آخری موڑ لیا تو فاطمہ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ وہ انسانیت کی خدمت جاری رکھیں۔


آج فاطمہ تو ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کے نام سے جاری صدقہ، دسترخوان، مدرسہ اور غریب مریضوں کے لیے آسان علاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ نیک نیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔


اللہ تعالیٰ فاطمہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین