یہ صرف ایک خبر نہیں، یہ طاقت کے نشے میں کی گئی بربریت کی چیخ ہے۔ جب محافظ ہی درندہ بن جائے تو انصاف دفن ہو جاتا ہے۔ ایک خاندان کو دھمکیوں، جبر اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے کچلا گیا، شوہر کے سامنے عزت پامال کی گئی اور ظلم کا ایسا سلسلہ چلا جس نے ایک معصوم جان چھین لی۔
یہ واقعہ پورے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ خاموشی اب جرم ہے۔ اگر آج آواز نہ اٹھی تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ انصاف چاہیے—ابھی، اسی وقت۔
طاقت کا نشہ انسانیت کو کچل دیتا ہے۔
یہ ظلم نہیں رکے گا، جب تک آواز نہ اٹھے۔