میری والدہ نے کہا شادیاں ہی کرتی رہو گی، کسی ایک کے ساتھ

میری والدہ کہتیں : اب کیا شادیاں ہی کرتی رہو گی کسی ایک کے ساتھ ٹک جاؤ ۔۔۔۔۔

محبت میں پاگل ہو کر جرم کرنے کےبعد جیل میں سڑنے والی کشمالہ کی باتیں ۔۔۔۔ کالج کے زمانے سے دونوں ایک دوسرے کو پیار کرتے تھے اور تعلقات میں بہت آگے چلے گئے تھے ، دونوں نے اپنے گھر والوں کی منتیں کیں ، مگر لڑکے کے گھر والے نہ مانے ، لڑکی کی گھر والوں نے اسکی شادی کزن کے ساتھ کردی ، ادھر لڑکے کی شادی اپنی کزن سے ہوگئی ، مگر ان دونوں کا نہ تو ایک دوسرے سے رابطہ ختم ہوا نہ تعلقات اور نہ ہی نام نہاد پیار ۔۔۔۔

پھر دونوں نے سوچا کہ اگر لڑکی اپنے شوہر اور لڑکا اپنی بیوی سے جان چھڑا لے تو یہ دونوں ایک دوسرے کو حاصل کرسکتے ہیں ، یہ ایک دوسرے کو پانے کے لیے اتنے جنونی تھے کہ لڑکی نے اپنے شوہر اور لڑکے نے اپنی بیوی کو ق۔ت۔ل کر ڈالا ، کچھ ماہ گزرے پھر رشتے کی بات چلی لیکن ایک بار پھر ان دونوں کی شادی پسند کے خلاف کسی اور سے ہوگئی ۔۔۔۔

عشق خانہ خراب اور ہوس کے جراثیم مگر دونوں میںا ور زیادہ ہو گئے تھے ، اس لیے سوچا کہ اب کیا کیا جائے ، تو پروگرام بنا کہ لڑکی اپنے شوہر کو لے کر مری گھومنے جائے ، لڑکا بھی وہاں آجائے گا اور لڑکی کے شوہر کو کسی پہاڑی سے دھکا دیں گے ، اور لڑکی شور مچائے گی کہ اسکا پاؤں پھسل گیا تھا ، مگر اس پروگرام پر عمل کرنے کی نوبت نہ سکی ، لڑکا گھر والوں کو کچھ بتائے بغیر مری گیا اور کئی روز اس کا پتہ نہ چلا تو لڑکے کے گھر والوں نے اسکی گمشدہ کی اطلاع پولیس کو دی ، پولیس نے سراغ لگا کر لڑکی کو شامل تفتیش کیا تو انکی محبت کا بھانڈا پھوٹ گیا جب لڑکا مری سے واپس پہنچا تو دونوں سے تفتیش شروع ہوئی تو دونوں کے پچھلے جرائم سامنے آگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں نے محبت میں پاگل ہو کر اور ایک دوسرے کو پانے کے لیے ق۔ت۔ل کرنے کا اعتراف کر لیا ،،،،،

آج دونوں جیل میں سڑ رہے ہیں ۔ لڑکی بار بار کہتی ہے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں میں نے جرم کیا لیکن اگر پہلی شادی میں والدین ہماری پسند کو مد نظر رکھتے تو ہمیں قا۔تل بننے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔۔۔۔ اس لڑکے اور لڑکی کی عبرتناک مثال پورے معاشرے کے لیے ایک کھلا سبق ہے