باپ نے جب پگڑی قدموں میں رکھ دی تو بیٹی کو پتہ چل گیا کہ یہ واپسی موت کی دہلیز ہو گی مگر۔۔۔

باپ نے جب پگڑی اپنے قدموں میں رکھ دی… تو بیٹی کی آنکھوں میں سب کچھ واضح ہو گیا یہ واپسی زندگی کی نہیں، موت کی دہلیز تھی 😓

وہ لڑکی جو گولیوں کی بوچھاڑ سے بچ کر، کانٹوں میں الجھ کر، اپنے جسم کو زخمی کر کے تھانے تک پہنچی تھی… صرف اس لیے کہ باپ کی عزت پر کوئی آنچ نہ آئے… وہی بیٹی پھر اسی عزت کے نام پر قربان کر دی گئی۔

چہرے پر ایک عجیب ٹھہراؤ تھا، جیسے سب کچھ جانتی ہو۔ اپنے زخمی بازو اور لہو سے تر ٹانگیں دکھا کر دھیمی آواز میں بولی:
“سانس تو سب کو عزیز ہوتی ہے نا… گولیاں چلیں تو بھاگ آئی… اب دارالامان میں ہوں”

مگر عدالت میں ایک لمحہ ایسا آیا، جہاں انصاف بھی خاموش ہو گیا… اور رشتے بھی۔
باپ نے چالاکی سے پگڑی زمین پر رکھ دی—ایک ایسا بوجھ جو بیٹی کے دل پر پہاڑ بن کر گرا۔

وہ جو موت سے لڑ کر آئی تھی… ایک دم ٹوٹ گئی۔
آنکھیں بند کیں، اور باپ کے ساتھ چل پڑی۔

لبوں پر آخری سچ تھا:
“مجھے معلوم ہے وہ مجھے مار دیں گے… مگر میں اپنے باپ کی عزت بچانے جا رہی ہوں”

اور پھر وہی ہوا جس کا خوف تھا…
باپ نے دشمنوں سے ہاتھ ملا لیا۔
جو بیٹی گولیوں سے بچ نکلی تھی… وہ اپنے ہی باپ کے ہاتھوں مٹا دی گئی۔

وہ باپ کے دکھ کو کم کرنے نکلی تھی… اور خود ہمیشہ کے لیے درد بن گئی۔
مگر افسوس… باپ کو نہ احساس ہوا، نہ پچھتاوا 😭

آخر کب تک یہ جھوٹی “غیرت” بیٹیوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھاتی رہے گی؟
کب تک محبت کے رشتے، رسم و رواج کے نام پر قتل ہوتے رہیں گے؟

اب بھی اگر ہم خاموش رہے… تو یہ خاموشی بھی ایک دن ہمارے دامن پر خون کے دھبے بن کر ابھرے گی۔
آواز اٹھاؤ… کیونکہ اب خاموش رہنا صرف کمزوری نہیں، جرم ہے۔

_𝑅𝑎𝑛𝑖𝐷𝑜𝑙𝑙 #SadNews