لاہور کے ایک کروڑ پتی خاندان کی بیٹی کیسے عبرت کا نشان بن گئی
سلمیٰ لاہور کے ایک امیر گھرانے کی اکلوتی بیٹی تھیں ان کے والد باہر ملک ملازمت کرتے تھے اور لاہور میں ان کا بڑا خوبصورت گھر تھا شادی کے بعد سلمیٰ کچھ ہی مہینوں میں اپنی بیمار ماں کی وجہ سے میکے آگئیں۔
شوہر انہیں واپس لے جانے کی کوشش کرتا رہا، مگر سلمیٰ نہ مانیں۔ پھر وقت کے ساتھ ان کے والد اور والدہ دونوں کا انتقال ہو گیا سلمیٰ کا ایک پڑھا لکھا بھائی تھا لیکن اسے ذہنی مسئلہ ہو گیا۔ وہ ایک دن گھر سے نکلا اور کبھی واپس
نہ آیا سلمیٰ نے اسے لاہور بھر میں ڈھونڈا تھانے کچہری سب جگہ گئیں، مگر بھائی کا کہیں پتہ نہ چلا اب سلمیٰ اپنے بڑے گھر میں اکیلی غریبوں کی طرح زندگی گزار رہی ہیں نہ آمدنی ہے نہ کوئی سہارا کھانے کے لیے لوگوں
سے مانگ کر شاپروں میں چیزیں لے آتی ہیں سارادن گلیوں میں اپنے بھائی کو ڈھونڈتی پھرتی ہیں ان کی جائیداد آج بھی قیمتی ہے لیکن وہ نہ گھر چھوڑنا چاہتی ہیں اور نہ اسے بیچنے پر راضی ہیں ان کی ایک بہن بار بار
کہتی ہے کہ اس کے پاس آجائیں مگر سلمیٰ رشتے نبھانے کے معاملے میں آج بھی ضد پر قائم ہیں ان کی بہترین زندگی صرف ایک غلط فیصلے اور رشتوں کی اہمیت نہ سمجھنے کی وجہ سے برباد ہو گئی اللہ ان پر رحم کرے۔ آمین۔۔